اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں علمائے دین اور مذہبی کارکنوں کے خلاف گرفتاریوں اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں میں اضافے کے بعد شیعہ عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں اور جیلوں میں قید نوجوانوں اور گرفتار علمائے دین کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان احتجاجی مظاہروں کی محدود تعداد میں سامنے آنے والی تصاویر کے مطابق، منامہ کے نواحی علاقوں میں مسلسل دوسری رات بھی اجتماعات منعقد ہوئے۔ بعض مقامات پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں جاری ہیں جب انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں شیعہ نوجوانوں کی گرفتاریوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بحرین کی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے 29 اکتوبر کو الدیہ علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے چار نوجوانوں کو گرفتار کیا، جن میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ اسی طرح سترہ (ستره) علاقے سے تعلق رکھنے والے آٹھ کم عمر نوجوانوں کی حراست میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کیے جانے کی اطلاعات ہیں اور وہ بدستور قید ہیں۔
دوسری جانب شیعہ علمائے دین، نوحہ خوانوں اور مذہبی مجالس کے منتظمین کی نئی گرفتاریاں بھی تشویش میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
اس حوالے سے امریکی شیعہ مسلم فاؤنڈیشن نے اپنے تازہ بیان میں بتایا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کم از کم چھ مذہبی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے مذہبی تقریبات منعقد کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
بحرین کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی گرفتاریوں اور مذہبی پابندیوں کے تسلسل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کارروائیوں کے ذریعے عوام کے مطالبات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام قیدیوں کی رہائی اور شہری و مذہبی حقوق کے احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سڑکوں پر احتجاج جاری رہنے اور قید نوجوانوں کی صورت حال پر تشویش بڑھنے کے ساتھ ہی سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر گرفتاریوں کا معاملہ ایک بار پھر بحرین کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں عوامی بے چینی کا اہم سبب بن گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ